. غول Technological Information academy

غول

"مجھے وہ لڑکی چاہیے۔ ہر قیمت پر ۔" 
اس وقت جاپان کے شہر ٹوکیو میں رات اپنے پر پھیلائے پُرسکون نظر آتی تھی ۔

اس خوبصورت و مشہور شہر کو جاپان کا کیپیٹل بھی کہتے ہیں 

شہر سے کچھ فاصلے پر گھنے جنگلوں کے بیچ جہاں کسی انسان کے ہونے کا امکان تک نہیں تھا۔ ایک پرانا پراسرار محل خوفناک آوازوں سے گونج رہا تھا۔

کالا سایہ پورے محل میں منڈلاتا آواز سے انتہائی غصے میں لگتا تھا۔

"سرسسر۔۔۔۔۔۔۔کااار۔۔۔ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اس لڑکی کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہم نہیں جانتے وہ کہاں ہے۔ " نیچے کھڑے ایک شخص نے ڈرتے ہوئے نہایت بیچارگی سے کہا۔

"جادوئی ہانڈی نے بتایا تھا وہ اسی شہر میں ہے۔ تم اتنے چھوٹے شہر میں ایک لڑکی نہیں ڈھونڈ سکے ہاں۔" کالا سایہ غصے سے رھاڑا۔

" ہمارے آدمیوں نے ہر گلی ، ہر مکان چھان لیا۔ سرکار آپ کی بتائی لڑکی کہیں نہیں ملی۔ مگر ایک بوسیدہ خالی مکان سے جو کئ سالوں سے بند ہے اس عورت کی یہ پرانی ڈائری ملی ہے ۔" اس شخص کے برابر کھڑے آدمی نے ڈرتے ڈرتے خاکی رنگ کی بہت پرانی پراسرار سی ڈائری دیتے ہوئے کہا۔

سائے نے اپنے دیوہیکل بھیانک روپ میں آتے دربار میں لگی سب سے اونچی کرسی پہ بیٹھتے جب کتاب پکڑی تو اسے جانی پہچانی سوگند محسوس ہوئی۔ ڈائری کے پہلے صفحے پہ کالے رنگ کی سیاہی سے میٹا میٹا سا عشرہ ہازیل لکھا تھا جسکے نیچے (5 اگست 2005 ) درج ذیل تھا۔

مگر جب پننے پلٹے تو باقی صفحات خالی تھے۔ 

"ییہ کتاب خالی ہے۔" 

" نکمے ہو سب بیس سالوں میں ایک لڑکی نہیں ڈھونڈ سکے اور خالی ڈائری پکڑا کر بہانے بناتے ہو" ڈائری دور ہؤا میں اُچھالتے وہ دھاڑا تھا۔ یہ جانے بغیر کہ یہ کتاب ہی ان کے لیے اصل مسئلہ ہے ۔

"مم۔۔مگرر۔۔سرکار۔۔اسے عشرہ ہازیل نے اپنے مایاوی جال میں محفوظ کیا تھا ۔ ہمیں اُس تک پہنچنے کے لیے پہلے مایاوی جال کا توڑ ڈھونڈنا ہوگا ہمیں لگا وہ توڑ اس کتاب میں ہوگا ۔"

نیچے کھڑے لوگوں میں سے ایک نے کہا۔۔ 

وہ درجن بھر لوگ تھے نہایت ڈراؤنے چہرے، دیوہیکل قد، اور گرے بڑے بڑے پڑوں والے۔ جن پر سیاہ لمبے نشانات انہیں اور خوفناک بناتے تھے۔

" خاموش"

 آواز اتنی بھیانک تھی کہ محل کے درودیوار بھی کانپ گئے۔

"بہت سن لی تم سب کی ناکامی بھری بقواس۔ اس بار میں خود اسے ڈھونڈنے جاؤنگا۔" 

"مگر سرکار اگر آپ اس لڑکی کے قریب بھی گئے تو مایاوی جال جلا کر بھسم کردیگا ۔" اسکے پاس کھڑے ایک چیلے نے تشویش سے کہا۔ 

"ہمارے بس میں نہیں ہے اسے پکڑنا جاؤ۔۔ اور وفادار کو بھیجو میرے پاس " ۔۔۔ سرکار نے کسی کے بارے میں کہا ۔

وہ سر ہلاتا چلا گیا ۔

اور سرکار ایک بار پھر کالے سائے کا روپ دھارے یہاں وہاں منڈلانے لگا ۔

 
ناول- غول 

ازقلم-ایم-انصاری

Coming Soon 


غول



Please Select Embedded Mode To Show The Comment System.*

Previous Post Next Post

Contact Form